الثلاثاء، 24 ربيع الثاني 1448| 2026/10/06
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

الراية-اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی اہم ترین بحثیں

 

 تحریر: استاد احمد الخطوانی

(ترجمہ)

 

منگل 22 ستمبر 2026ء کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی بحثوں اور مشاورت کا آغاز ہوا، جس میں اس کے 130 رکن ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ حکام نے "اعتماد کی بحالی اور تبدیلی کا انتظام: ایک ایسا اقوامِ متحدہ جو سب کی خدمت کرے" کے عنوان کے تحت شرکت کی۔ اس اجلاس میں متعدد اہم امور پر غور و خوص کیا گیا، جن میں سب سے نمایاں: مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال، غزة میں نسل کشی، یوکرین کی جنگ، افریقہ میں بین الاقوامی تنازعات، عالمی سلامتی، مصنوعی ذہانت اور عالمی گورننس، موسمیاتی تبدیلی، ترقی، بین الاقوامی نظام کو درپیش چیلنجز اور دیگر مسائل شامل تھے۔

بلا شبہ یہ اجلاس اور تقاریر ہر سال دہرائے جانے والے ایک نمائش کاری سیاسی میلے کی مانند ہیں، اور یہ ایسی  ملاقاتیں اور تقریریں ہیں جو رکن ممالک کے لیے نہ تو کوئی اثر رکھتی ہیں اور نہ ہی کوئی فائدہ مند چیز پیش کرتی ہیں۔ یہ درحقیقت ان مظلوم قوموں کے دبے ہوئے غصے کے جذبات کی بھڑاس نکالنے کے لیے محض کھوکھلے الفاظ ہیں، جن مظلوم قوموں کی ریاستیں اس بے بس اسمبلی سے تعلق رکھتی ہیں۔ چنانچہ وہ حکمران، جن کی اکثریت بڑی طاقتوں کی مٹی تلے دبی ہوئی ہے، اپنے عوام کے مسائل کے دفاع میں جذبات سے بھری باتیں کرتے ہیں تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ وہ دنیا پر مسلط اس بین الاقوامی نظام میں موجود اور فعال ہیں۔ جب کہ بڑی طاقتیں یہ سمجھتی ہیں کہ سربراہانِ مملکت کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کا موقع دینا اس بات کا ثبوت اور اعتراف ہے کہ یہ ریاستیں اس بین الاقوامی تنظیم کے آگے سرِ تسلیمِ خم کیے ہوئے ہیں، جو سلامتی کونسل کے ذریعے دنیا کو چلا رہی ہے جس پر محض اس کے پانچ رکن ممالک کی حکمرانی ہے۔

پس یہ جنرل اسمبلی دنیا کے دیگر تمام ممالک پر پانچ بڑی طاقتوں کے احکامات مسلط کرنے کی ایک تعبیر ہے، جنہیں ان سالانہ اجلاسوں اور گھسے پٹے خطابوں کے ذریعے بہلایا جاتا ہے جو ہر سال اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انہیں میسر آتے ہیں۔ اور اس سال اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں میڈیا کی سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والی تقاریر میں سے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا خطاب تھا، جنہوں نے کہا: "مشرقِ وسطیٰ میں جس شے کو 'جنگ بندی' کا نام دیا جا رہا ہے، وہ کم شدت والی گولی باری کے سوا کچھ نہیں، اور مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع اور جبری بے دخلی نسلی صفائی کے بھوت کو بیدار کر رہی ہے، اور دو ریاستی حل کے بغیر کوئی امن ممکن نہیں"۔ لیکن ان کا یہ خطاب بڑی طاقتوں اور بین الاقوامی سیاست پر کوئی اثر نہیں ڈالتا، کیونکہ یہ محض ایک انشائیہ اور رسمی تقریر ہے۔

پھر ایران کے صدر کا خطاب تھا جس میں اس نے امریکہ کی پالیسیوں کو "مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور غنڈہ گردی کا اصل سبب" قرار دیا۔ لیکن اس اونچے سُر کے باوجود، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے امریکہ کو سات دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا ایک منصوبہ بھیجا ہے، اس شرط کے بدلے کہ امریکہ اپنی فوجی کارروائیاں روکے، ایرانی تیل کی برآمدات پر سے پابندیاں اٹھائے اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی محاصرہ ختم کرے۔ اور پزشکیان نے کہا کہ ایرانی رہبر مجتبیٰ خامنہ ای اس تجویز کی حمایت کرتے ہیں۔ چنانچہ ایرانی سیاست دان افسوس کے ساتھ اب بھی مذاکرات کی میز پر واپسی کے لیے ہانپ رہے ہیں۔

اور نمایاں تقاریر میں چین کے صدر کا خطاب بھی شامل تھا جس میں اس نے اس بات پر زور دیا کہ "بڑی طاقتوں، بالخصوص امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات تباہ کن مسابقت کے بجائے شراکت داری کی بنیاد پر قائم ہونے چاہئیں"۔ چنانچہ چین اپنے خطاب میں وہی بات دہراتا ہے جو وہ ہمیشہ کہتا آیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات میں امریکہ کا ایک بین الاقوامی شریک کار—برابر اور ہم پلہ—کا کردار حاصل کرنا چاہتا ہے، اور وہ امریکہ سے مسابقت اور عالمی منظر نامے پر اس کی شراکت داری میں مسلسل پیش رفت کر رہا ہے۔

اسی طرح یہودی وجود کی حکومت کے سربراہ کا خطاب بھی اہم تقاریر میں سے تھا، جہاں اس کا خطاب شروع ہونے سے قبل درجنوں سفارت کار اجلاس کے ہال سے احتجاجاً باہر نکل گئے، جو کہ غزة میں فلسطینیوں کے خلاف اس کی حکومت کی جانب سے کی جانے والی منظم نسل کشی کی پالیسیوں کے خلاف ایک احتجاج تھا۔ اس نے اپنے خطاب میں نسل کشی کے الزامات کا انکار کیا اور پوری قوت سے دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعادہ کیا، اور اپنی اپنائی ہوئی مجرمانہ پالیسیوں سے پیچھے نہ ہٹنے کا عزم ظاہر کیا، اور کہا: "ہم جیتیں گے، ہمارے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں"۔ اس نے ترکی، برطانیہ اور فرانس پر حملے کیے، اور اپنے خطاب میں آئندہ انتخابات میں کامیابی کے لیے یہودی وجود میں اپنے حامیوں کی مقبولیت اور رضا حاصل کرنے، اور امریکہ میں طاقتور یہودی لابی کے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے وہاں کی محافظ راست رو (کنزرویٹو رائٹ) سے پینگیں بڑھانے کے سوا کسی کی پروا نہیں کی۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں برطانیہ کے وزیرِ اعظم اینڈی برنہم کا خطاب بھی نمایاں رہا، جس میں یوکرین کی جنگ اور روس کے خلاف یوکرینیوں کی مسلسل حمایت پر توجہ مرکوز کی گئی اور اس حمایت کو یورپی قومی سلامتی کے مسائل سے جوڑا گیا۔ اس نے یہودی وجود کے لیے نام نہاد سیکیورٹی چیلنجز کا ذکر بھی کیا جن کے بارے میں کہا کہ وہ عام شہریوں کے خلاف اس کے تجاوزات کا جواز فراہم نہیں کرتے۔ اور اس نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ "بین الاقوامی مشروعیت پر اعتماد کو مجروح ہونے سے بچانے کے لیے نظریاتی نعروں پر اکتفا کرنے کے بجائے دو ریاستی حل کی جانب عملی پیش رفت کے حتمی ہونے کی تاکید کی جائے"۔ اس نے E1 علاقے میں بستی کاری کے منصوبوں پر ایک بار پھر تنقید کی، جس نے دستِ نگر عرب ریاستوں کو ان کے ان ہی موقفوں کو اپنانے پر اکسایا، بالخصوص دو ریاستی نظریے کو۔

جہاں تک فرانس کے صدر میکرون کا تعلق ہے، اس نے کثیر الجہتی پر مبنی ایک بین الاقوامی نظام کے قیام اور جنگل کے قانون میں گرنے کے خدشے کی طرف دعوت دی، اور جہاں تک فلسطین کے مسئلے کا تعلق ہے، اس نے کہا: "غزة میں نام نہاد امن ایک ایسا منظر ہے جو ہم سب کو شرمسار کرتا ہے"، اور "مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد پر تنقید کی اور کہا کہ یہ فلسطینیوں کے وجود کے حق کو ختم کر رہا ہے"۔ اور اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ برطانیہ اور فرانس مغربی کنارے میں بستی کاری کی یلغار کو محدود کرنے اور نتن یاہو حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں تاکہ E1 منصوبے کو منسوخ کیا جا سکے اور یہودی وجود کو فلسطینی ریاست کے نظریے کو ختم کرنے سے روکا جا سکے۔ جہاں تک دیگر عرب حکام کا تعلق ہے، تو اس نے برطانیہ کے وزیرِ اعظم کی کہی ہوئی باتوں کو ہی دہرایا کہ دو ریاستی حل سے وابستگی، نتن یاہو حکومت کے ان اقدامات کو روکنا جو مغربی کنارے کے لوگوں کی جبری بے دخلی کا باعث بنتے ہیں، اور آبنائے ہرمز کو کھولنے اور سمندری آبنائیوں میں جہاز رانی کی آزادی کی بحالی ضروری ہے۔

اور یہ تقاریر وہی باتیں ہیں جو وہ اپنے اپنے ملکوں میں بیان کرتے ہیں، لیکن ذرا زیادہ شائستہ انداز میں۔ چنانچہ ایک ایسے وقت میں جب نتن یاہو نہایت ہٹ دھرمی سے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی جارحانہ اور توسیع پسندانہ پالیسیاں جاری رکھنے کا اعادہ کر رہا ہے، عرب حکمران صرف امن، باہمی بقا، امن و امان کی بحالی اور کشیدگی کے اسباب کو ختم کرنے کے الفاظ کے سوا کچھ نہیں بولتے۔ پس اس بین الاقوامی ہنگامے میں عرب حکمرانوں کی تقاریر امریکہ، برطانیہ اور فرانس جیسی بڑی طاقتوں کی پالیسیوں سے باہر نہیں نکلیں، جیسے کہ علاقے میں استحکام پر توجہ مرکوز کرنا جیسا کہ امریکہ چاہتا ہے، اور مغربی کنارے میں بستی کاری کے پھیلاؤ کو روکنا جیسا کہ برطانیہ اور فرانس چاہتے ہیں۔ لیکن اپنے ہاتھ میں موجود طاقت کے پتے،جو کہ بہت سے ہیں،کو استعمال کر کے اپنے وزن اور فیصلوں کو قوت کے ساتھ نافذ کرنا وہ کام ہے جسے کرنے کی جرات یہ ایجنٹ قیادتیں نہیں کر سکتیں  جبکہ دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے یہ کام لازمی تھا۔

اور جہاں تک امریکی صدر ٹرمپ کا تعلق ہے، اس نے بہت سے امور پر تفصیل سے بات کی، لیکن شاید اس کی کہی ہوئی باتوں میں سے سب سے اہم کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران کو تباہ و برباد کر سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود اس نے 3 نومبر 2026ء کو ہونے والے امریکی مڈ ٹرم انتخابات کے بعد کسی ڈیل کے طے پانے کی توقع ظاہر کی۔ اور ایران کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیوں کی شدت کے باوجود، وہ اسے مذاکرات کی میز پر واپس لانے کی پوری کوشش کر رہا ہے کیونکہ اس کے پاس ایران کے معاملے میں اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

Last modified onمنگل, 06 اکتوبر 2026 05:20

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک