الثلاثاء، 24 ربيع الثاني 1448| 2026/10/06
Saat: (M.M.T)
Menu
القائمة الرئيسية
القائمة الرئيسية

بسم الله الرحمن الرحيم

 

اداریہ

 

سیسی  کنانہ کی فوج کو استعماری کفار کے لیے تو فیاضی سے پیش کر رہا ہے، مگر مسلمانوں کے معاملے مین بخل کر رہا ہے!

 

تحریر: استاد سعید فضل

(ترجمہ)

 

 

مصری صدر سیسی نے منگل، 22 ستمبر 2026ء کو یونانی وزیرِ دفاع نکولاؤس دندیاس اور قبرصی وزیرِ دفاع فاسلیس بالماس کے ساتھ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی، سیکیورٹی اور فوجی تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ دو الگ الگ ملاقاتوں کے دوران سیسی نے مصر، یونان اور قبرص کے درمیان قائم سہ فریقی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا کہ یہ تعاون "مشرقی بحیرۂ روم کے علاقے میں امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے حصول کے لیے علاقائی تعاون کا ایک کامیاب نمونہ بن چکا ہے"۔

 

مصری صدارتی محل کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں ترجمان نے بتایا کہ سیسی نے مصر، قبرص اور یونان کو جوڑنے والے دوطرفہ تعلقات کی اہمیت کا اظہار کیا اور ان کے درمیان قائم اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے اور مختلف شعبوں، خصوصاً سیکیورٹی اور فوجی شعبوں میں اسے وسیع تر افق تک لے جانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ان کے عوام کی مشترکہ امنگیں پوری ہو سکیں۔ جبکہ یونانی وزیرِ دفاع نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور غیر قانونی ہجرت کے سدِ باب میں مصر اور یونان کے درمیان مسلسل تعاون اور ہماہنگی کی اہمیت پر زور دیا۔

 

سیسی حکومت خطے میں اپنے جس کردار کو پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اس پر غور و فکر کرنے والا شخص اس کے عظیم گناہ اور جرم کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ تمام اسلامی ممالک جنگوں، تباہ کاریوں اور ان آفات کے طوفان میں گھِرے ہوئے ہیں جن کی آگ کافر استعمار،امریکہ، برطانیہ اور یہودی وجود وغیرہ،نے بھڑکائی ہے، اور خود مصر ایک ایسے خطے کے وسط میں واقع ہے جو ان جنگوں سے دہک رہا ہے جنہیں یہودی وجود نے شروع کیا تھا اور وہ اب بھی ان کی آگ کو ہوا دے رہا ہے۔ چنانچہ اس کے دائیں جانب زخمی اور تباہ حال غزہ ہے جہاں یہودی وجود تین سال سے بدترین جرائم اور ہولناک ترین قتل عام کا ارتکاب کر رہا ہے اور وہاں کے باشندوں کو بے دخل کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے؛ اور اس کے شمال میں لیبیا میں باہم برسرِ پیکار گروہوں کے درمیان ایک ہولناک جنگ جاری ہے جس کا ایندھن انسان اور ملک کے وسائل بن رہے ہیں اور جس کا مقصد ملک کو امریکہ اور برطانیہ کے اثر و رسوخ میں تقسیم کرنا ہے؛ اور اس کے جنوب میں سوڈان میں ایک ایسی تباہ کن جنگ لگی ہوئی ہے جو خشک و تر کو بھسم کر رہی ہے، تاکہ دارفور کو سوڈان سے الگ کرنے کے امریکی خباثت سے بھرپور مقاصد حاصل کیے جا سکیں جیسا کہ اس نے پہلے جنوبی سوڈان کے ساتھ کیا تھا، اور تاکہ پورے ملک کا امریکی تسلط کے تحت رہنا یقینی بنایا جا سکے؛ اور اس کے بالکل قریب یمن میں اثر و رسوخ کی امریکی و برطانوی کشمکش کے تحت علاقائی اور مقامی ایجنٹوں کے درمیان جنگ جاری ہے، جو ایران کے خلاف امریکی جنگ کا ہی سلسلہ ہے، اور وہاں ایک بڑی جنگ چھڑنے کے قریب ہے جس میں 'مکہ اتحاد' کے بہانے ترکیہ اور پاکستان بھی شامل ہو رہے ہیں، وہ اتحاد جو ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مدد کے لیے بنایا گیا تھا۔

 

یہ اس خطے کے منظر نامے کا محض ایک حصہ ہے، اور یہ تمام اسلامی ممالک کے بڑے منظر نامے کا ایک جزو ہے۔ ان تمام آفات، مصائب اور خطرات کے درمیان سیسی حکومت خود کو اس کام کے لیے فارغ پاتی ہے کہ وہ استعماری یونان اور یونانی قبرص کو مدد فراہم کرے، چنانچہ وہ مصر کی فوج، اس کی صلاحیتوں اور اس کی مہارتوں کو یونان اور یونانی قبرص کی خدمت کے لیے پیش کر رہی ہے،وہی یونانی قبرص جو خطے میں یہودی وجود کا اتحادی اور مسلمان ملک ترکیہ کا دشمن ہے۔ یوں وہ ایک طرف استعماری کفار پر تو اسے فیاضی سے نچھاور کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف مسلمانوں سے بخل کر رہی ہے۔

 

پس مصری فوج اور اس کی صلاحیتوں پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ غزہ کا جو تین سال سے زخموں سے چور تڑپ رہا ہے اور یہودی وجود کے ہاتھوں اپنی نسل کشی سے نجات کے لیے امت کو پکار رہا ہے، یا یونان کا جو یہودی وجود سے دوستی رکھتا ہے اور مسلمانوں سے دشمنی مول لیتا ہے؟!

 

اور مصر اور اس کی فوج کی نصرت و مدد کا زیادہ حق دار کون ہے؟ سوڈان اور اس کے عوام جو وہاں امریکہ کے دو ایجنٹوں کے درمیان چھیڑی گئی مصنوعی جنگ کے نتیجے میں بھوک، قتل و غارت اور بے گھری کی وجہ سے چیخ رہے ہیں، یا یونان جو نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کا رکن ہے،امریکہ کا وہ فوجی اتحاد جس نے عراق، افغانستان، سوریا اور لیبیا وغیرہ کو تباہ و برباد کر دیا؟!

 

اور مصری فوج پر زیادہ حق کس کا ہے؟ لیبیا کا، تاکہ اس کے عوام کی مدد کی جائے اور وہاں سے امریکی و برطانوی استعمار اور اس کے آلات کی جڑ کاٹ دی جائے، یا یونان کا جو مسلمانوں سے کھلی دشمنی اور امریکہ سے دوستی کا اعلان کرتا ہے؟!

 

اور ان اموال، کوششوں اور اخراجات پر زیادہ حق کس کا ہے؟ مصر کے ان غریب عوام کا جو سیسی کی پالیسیوں، اس کے کارندوں کی بدعنوانی اور ملک کی لوٹ مار کی وجہ سے شدید ترین غربت میں مبتلا ہیں، یا یونان کے امن اور استعماری قوتوں کے مفادات کا؟!

 

یہ اس سے قطعِ نظر ہے جسے یونانی وزیرِ دفاع نے "دہشت گردی کے خاتمے میں مصر اور یونان کے درمیان تعاون اور ہماہنگی" کا نام دیا،وہی دہشت گردی جس کے بارے میں ہر شخص جانتا ہے کہ مسلمان حکمران اور مغرب اس سے مراد 'اسلام' لیتے ہیں۔

 

یقیناً اسلام نے دشمنوں کے ساتھ تعاون کرنے اور ان پر تکیہ کرنے کو حرام قرار دیا ہے، اور مسلمانوں اور کافروں کے درمیان دفاعی و فوجی اتحاد قائم کرنے کو جرم قرار دیا ہے؛ کیونکہ یہ اتحاد مسلمان کو ایک کافر کی کمان اور کفر کے پرچم تلے لڑنے پر مجبور کرتا ہے، اور اسے کفر کی ریاست و وجود کی بقا کے لیے لڑنے والا بناتا ہے، اور یہ سب کچھ حرام ہے۔ لہٰذا کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان کی کمان اور اسلام کے پرچم کے سوا کسی کے تحت قتال کرے۔

 

اور صحیح حدیث میں کافروں کے پرچم تلے اور ان کی کمان میں قتال کرنے سے ممانعت وارد ہوئی ہے۔ چنانچہ امام احمد اور امام نسائی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:«لَا تَسْتَضِيئُوا بِنَارِ الْمُشْرِكِينَ» "مشرکوں کی آگ سے روشنی حاصل نہ کرو۔" یعنی مشرکوں کی آگ کو اپنے لیے روشنی کا ذریعہ نہ بناؤ۔ اور یہاں 'آگ' جنگ سے کنایہ ہے۔

 

اس کے علاوہ، عسکری و دفاعی اتحاد کافروں کو اپنے مستقل وجود کو برقرار رکھتے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ مل کر لڑنے کا موقع دیتے ہیں، یعنی وہ افراد کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ریاست کی حیثیت سے قتال کرتے ہیں، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے کافروں سے ایک منظم وجود/ریاست کی حیثیت سے مدد لینے سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ حضرت ضحاک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں وارد ہوا ہے: «أن رسول الله ﷺ خرج يوم أُحد فإذا كتيبة حسناء أو قال خشناء فقال:مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قالوا: يهود كذا وكذا. فقال: لَا نَسْتَعِينُ بِالْكُفَّارِ» "رسول اللہ ﷺ احد کے دن (جہاد کے لیے) نکلے تو ایک خوب مسلح  دستہ نظر آیا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: 'یہ کون لوگ ہیں؟' صحابہ نے عرض کیا: 'یہ فلاں فلاں جگہ کے یہودی ہیں۔' اس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: 'ہم کافروں سے مدد حاصل نہیں کرتے۔'"

 

پس کافر ریاستوں کے ساتھ عسکری و دفاعی معاہدے اور اتحاد شرعاً حرام ہیں اور باطل و کالعدم ہیں۔ اور کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی حربی کافر کے دفاع کی خاطر اپنا خون بہائے، بلکہ مسلمان تو لوگوں سے اس لیے قتال کرتا ہے تاکہ وہ اسلام میں داخل ہو جائیں۔

 

سیسی جو کچھ کر رہا ہے وہ ایک سیاسی غلطی اور شرعی جرم ہے، کیونکہ وہ ملک کی فوج کو استعماری کفار کے مفادات کے لیے مسخر کر رہا ہے اور امت کے دشمنوں کے ساتھ تعاون و اتحاد پر فخر جتاتا ہے، جبکہ مسلمانوں اور ان کے مسائل کی نصرت سے جی چراتا اور لاپرواہی برتتا ہے، حالانکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾ "مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔" (سورة الحجرات: آيت 10)

 

اور یہی وہ امر ہے جو فوجِ کنانہ (مصری فوج) میں موجود مخلصین پر واجب کرتا ہے کہ وہ سیسی اور اس کے نظام سے مصر کو نجات دلانے اور مصر کو  نبوت کے نقشِ قدم پر قائم دوسری خلافتِ راشدہ کا مرکز  بنانے کے لیے اپنا فرض ادا کرنے اٹھ کھڑے ہوں، کیونکہ یہی کامیابی اور فلاح ہے۔

 

 

ولایہ مصر میں حزب التحریر کے میڈیا آفس کے رکن

 

 

Last modified onمنگل, 06 اکتوبر 2026 05:16

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

اوپر کی طرف جائیں

دیگر ویب سائٹس

مغرب

سائٹ سیکشنز

مسلم ممالک

مسلم ممالک